Writer Introduction (تعارفِ مصنف)
### غلام عباس (Ghulam Abbas)
**غلام عباس** (1909-1982) اردو کے ایک مایاناز افسانہ نگار تھے۔ آپ کے افسانے حقیقت نگاری کا بہترین نمونہ ہیں۔ آپ نے معاشرتی مسائل، انسانی نفسیات اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کو بڑے سادہ مگر پر اثر انداز میں بیان کیا ہے۔ 'آنندی'، 'اوورکوٹ' اور 'کتبہ' آپ کے مشہور افسانے ہیں۔
Summary (خلاصہ: کتبہ)
**خلاصہ:**
افسانہ 'کتبہ' ایک غریب کلرک **شریف حسین** کی کہانی ہے جس کی زندگی کا واحد خواب اپنا ذاتی مکان بنانا ہے۔ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ ایک سنگِ مرمر کا کتبہ (Plaque) بنواتا ہے جس پر اس کا نام 'چوہدری شریف حسین' لکھا ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جب مکان بنے گا تو یہ کتبہ دروازے پر لگاؤں گا۔
شریف حسین ساری زندگی پائی پائی جوڑتا ہے، تنگی کاٹتا ہے، لیکن مہنگائی اور گھریلو اخراجات کی وجہ سے مکان بنانے کا خواب پورا نہیں ہو پاتا۔ وہ کتبہ صندوق میں سنبھال کر رکھتا ہے اور اکثر اسے نکال کر دیکھتا ہے۔ آخر کار، شریف حسین بیماری اور غربت میں انتقال کر جاتا ہے۔ اس کے مرنے کے بعد، اس کے بیٹے اسی کتبے کو اس کی **قبر** پر لگا دیتے ہیں۔
**نتیجہ:**
یہ افسانہ انسانی حسرتوں اور زندگی کی بے ثباتی (Irony of Fate) کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح انسان کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔
Character Sketch (کریکٹر سکیچ: شریف حسین)
1. **شریف حسین:** ایک معمولی سرکاری کلرک جو سفید پوشی کا بھرم رکھتا ہے۔
2. **خواب:** اس کی زندگی کا مقصد اپنا گھر بنانا ہے۔
3. **محنت و مشقت:** وہ گھر بنانے کے لیے شدید کنجوسی اور بچت کرتا ہے۔
4. **حسرت:** اس کا خواب اس کی زندگی میں پورا نہیں ہوتا اور وہ حسرت لیے دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔