Urdu Chapter 5 'Kaleem aur Mirza Zahir Dar Baig' by Deputy Nazir Ahmed. Complete Summary, Character Sketches, and Solved Exercises from the novel Taubat-un-Nasooh.
ڈپٹی نذیر احمد (1830-1912) اردو کے پہلے ناول نگار تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آپ نے اصلاحی ناولوں کے ذریعے مسلمانوں کی معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کی۔ آپ کے کردار حقیقی زندگی سے ماخوذ معلوم ہوتے ہیں۔ آپ کی زبان دہلی کی ٹکسالی زبان ہے جس میں محاورات کا برجستہ استعمال ملتا ہے۔
یہ سبق ڈپٹی نذیر احمد کے مشہور ناول 'توبۃ النصوح' سے ماخوذ ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار کلیم ہے جو اپنے والد (نصوح) کی سختی سے ناراض ہو کر گھر چھوڑ دیتا ہے اور اپنے دوست مرزا ظاہر دار بیگ کے پاس جا ٹھہرتا ہے۔ کلیم سمجھتا ہے کہ مرزا بڑا دولت مند اور خوش حال ہے، لیکن وہاں جا کر اُسے حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔
مرزا ظاہر دار بیگ ایک نہایت چالاک، باتوں کا دھنی لیکن حقیقت میں کنگال شخص ہے۔ وہ کلیم کو ایک پرانی اور ویران مسجد میں ٹھہراتا ہے۔ کھانے کے وقت بازار سے کچھ سستا سالن اور روٹیاں منگوا کر پیش کرتا ہے اور اپنی جھوٹی شان و شوکت کی داستانیں سناتا رہتا ہے۔ کلیم کو جلد ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مرزا صرف 'ظاہر دار' ہے، یعنی اوپر سے بنا ہوا، اندر سے کچھ بھی نہیں۔ آخرکار کلیم کو وہاں ذلت اٹھانی پڑتی ہے اور وہ پچھتاتا ہے۔
مرزا ظاہر دار بیگ کا کردار اس کہانی کا سب سے دلچسپ اور اہم کردار ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی عکاسی کرتا ہے جو نمود و نمائش کا دلدادہ ہے۔
1. جھوٹی شان: اپنے نام کی طرح وہ صرف 'ظاہرداری' کا قائل ہے۔
2. باتونی: وہ باتوں باتوں میں خود کو بہت بڑا امیر ظاہر کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کچھ نہیں۔
3. دھوکہ باز: وہ کلیم کو اپنے جھوٹے وعدوں اور چکنی چپڑی باتوں سے دھوکہ دیتا ہے۔