TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class
10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 0
urdu • matric 9th

نعت (Naat)

Urdu Chapter 2 Naat by Maulana Zafar Ali Khan. Complete Tashreeh, Markazi Khayal, and Solved Exercises for 9th Class.

تعارف شاعر: مولانا ظفر علی خان

مولانا ظفر علی خان (1873-1956) ایک بہترین شاعر، صحافی اور سیاستدان تھے۔ آپ کو 'بابائے صحافت' کہا جاتا ہے۔ آپ کی نعت گوئی میں عشق رسول ﷺ کا عنصر نمایاں ہے۔ آپ کا اسلوب سادہ، پرجوش اور دلنشین ہوتا ہے۔

مرکزی خیال

اس نعت میں شاعر نے حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو کائنات کی تخلیق کا سبب قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کی محبت ہی دل کی زندگی ہے اور آپ ﷺ ہی دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ کائنات کی ہر چیز آپ ﷺ کے وجود سے روشن ہے۔

شعر نمبر 1

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

مفہوم: ہمارے دل آپ ﷺ کی محبت سے زندہ ہیں اور یہ دنیا آپ ﷺ ہی کے دم قدم سے قائم ہے۔

تشریح: شاعر کہتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو زندگی کی رمق ہے وہ صرف عشق رسول ﷺ کی بدولت ہے۔ اگر دل میں آپ ﷺ کی محبت نہ ہو تو وہ دل مردہ ہے۔ اسی طرح یہ کائنات اور اس کی رونقیں آپ ﷺ کے وجودِ مسعود کی وجہ سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی خاطر ہی یہ دنیا تخلیق فرمائی۔

شعر نمبر 2

آتی ہے جو گھٹا معصیت کے بیاباں سے
پرتو تمہارے رحمت کے سائے کا ہے

تشریح: شاعر کہتا ہے کہ گناہوں کے صحرا (بیاباں) سے جو کالی گھٹائیں اٹھتی ہیں یعنی جب انسان گناہوں میں گھر جاتا ہے، تو حضور ﷺ کی رحمت ہی اُسے ڈھانپ لیتی ہے۔ آپ ﷺ کی شفقت گناہگاروں کو مایوسی سے بچاتی ہے۔

شعر نمبر 3

گرتے ہوؤں کو تھاما جس نے بازو سے
وہ سردارِ عرب و عجم تمہی تو ہو

تشریح: وہ ذات جس نے انسانیت کو گرنے سے بچایا اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر بلندی عطا کی، وہ نبی کریم ﷺ کی ذات ہے۔ آپ ﷺ عرب اور عجم (پوری دنیا) کے سردار ہیں۔ آپ ﷺ نے دکھی انسانیت کا سہارا بن کر انہیں عزت بخشی۔

شعر نمبر 4

دنیا میں رحمتِ دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہی تو ہو

تشریح: شاعر سوالیہ انداز میں پچھتا ہے کہ اس دنیا میں دونوں جہانوں کے لیے رحمت بن کر کون آیا ہے؟ یقیناً وہ صرف آپ ﷺ کی ذات ہے۔ آپ ﷺ جیسی کوئی مثال (نظیر) کائنات میں موجود نہیں۔ آپ ﷺ اپنی خوبیوں اور کمالات میں یکتا اور بے مثال ہیں۔

شعر نمبر 5

سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہی تو ہو

تشریح: اللہ تعالیٰ نے یہ ساری کائنات، چاند سورج، زمین و آسمان سب کچھ آپ ﷺ کی خاطر تخلیق کیا۔ 'غایت' کا مطلب مقصد ہے۔ یعنی تمام مقاصد میں سب سے اولین اور اہم مقصدِ تخلیق آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو یہ کائنات نہ بنائی جاتی۔

Download PDFPDF