TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class
10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 18
urdu • matric 9th

Gham Hai Ya Khushi Hai Tu (غم ہے یا خوشی ہے تو)

Read the summary, tashreeh, and exercises of Urdu Class 9 Chapter 18 'Gham Hai Ya Khushi Hai Tu' (Ghazal) written by Nasir Kazmi.

Writer Introduction (تعارفِ شاعر)

### ناصر کاظمی (Nasir Kazmi) **ناصر کاظمی** (1925-1972) اردو کے جدید شعراء میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہیں ’نئے غم کا شاعر‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں اداسی، ہجر اور یادوں کا ذکر بہت خوبصورت انداز میں ملتا ہے۔ ان کا لہجہ دھیما اور مؤثر ہے جو سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔

Summary (خلاصہ: غم ہے یا خوشی ہے تو)

**خلاصہ:** اس غزل میں ناصر کاظمی اپنے محبوب (یا اپنی کیفیات) سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ تو غم ہے یا خوشی، لیکن جو بھی ہے، میری زندگی کا حاصل ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تو میری زندگی سے اس طرح جڑا ہوا ہے جیسے پھول سے خوشبو۔ شاعر خود کو ’خزاں کی شام‘ سے تشبیہ دیتے ہیں جو اداس ہوتی ہے، لیکن محبوب کی یاد اسے روشن کر دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دوستوں کی محفل میں بھی میں صرف تیری وجہ سے موجود ہوں، ورنہ میرا دل کہیں اور ہے۔ آفتوں اور مشکل وقت میں صرف تیری یاد ہی میرا سہارا ہے۔

Central Idea (مرکزی خیال)

اس غزل کا مرکزی خیال ’یادِ محبوب‘ اور ’احساسِ تنہائی‘ ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کی یاد زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے جو دکھ سکھ ہر حال میں انسان کے ساتھ رہتا ہے۔ شاعر اداسی میں بھی محبوب کی یاد سے سکون پاتا ہے۔
Download PDFPDF