TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class
10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 17
urdu • matric 9th

Sun To Sahi Jahan Mein Hai Tera Afsana Kya (سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا)

Read the summary, tashreeh, and exercises of Urdu Class 9 Chapter 17 'Sun To Sahi Jahan Mein Hai Tera Afsana Kya' (Ghazal) written by Khwaja Haider Ali Aatish.

Writer Introduction (تعارفِ شاعر)

### خواجہ حیدر علی آتش (Khwaja Haider Ali Aatish) **خواجہ حیدر علی آتش** (1764-1846) لکھنؤ کے ممتاز شاعر تھے۔ آپ اپنی شاعری میں دلیری، مردانگی اور خود اعتمادی کے مضامین کے لیے مشہور ہیں۔ آپ کا کلام سادہ لیکن پُر اثر ہوتا ہے اور اس میں دنیا کی بے ثباتی کے ساتھ ساتھ انسانی عظمت کا احساس بھی ملتا ہے۔ آپ کا تعلق ’دبستانِ لکھنؤ‘ سے تھا۔

Summary (خلاصہ: سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا)

**خلاصہ:** اس غزل میں خواجہ حیدر علی آتش انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے کی دعوت دیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اے انسان! تو ذرا سن کہ دنیا والے تیرے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تیرے اندر بہت سی خوبیاں پوشیدہ ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے زمین کے اندر خزانے چھپے ہوتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہمارے پاس علم اور عمل کا خزانہ ہے، اس لیے اگر زمانہ ہمارے خلاف ہو بھی جائے تو ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ انسان کا دل دنیا کے غموں سے بے پروا ہونا چاہیے اور اسے اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہنا چاہیے، چاہے راستے میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ ہوں۔

Central Idea (مرکزی خیال)

اس غزل کا مرکزی خیال ’خود شناسی‘ (Self-Realization) اور ’علم و عمل کی طاقت‘ ہے۔ شاعر کا پیغام ہے کہ انسان اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانے اور دنیاوی مخالفتوں کی پروا کیے بغیر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے۔ علم اور عمل ہی انسان کا اصل سرمایہ ہیں۔
Download PDFPDF