TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class
10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 16
urdu • matric 9th

Faqirana Aaye Sada Kar Chale (فقیرانہ آئے صدا کر چلے)

Read the summary, tashreeh, and exercises of Urdu Class 9 Chapter 16 'Faqirana Aaye Sada Kar Chale' (Ghazal) written by Mir Taqi Mir.

Writer Introduction (تعارفِ شاعر)

### میر تقی میر (Mir Taqi Mir) **میر تقی میر** (1723-1810) کو ’خدائے سخن‘ اور ’امام المتغزلین‘ کہا جاتا ہے۔ آپ آگرہ میں پیدا ہوئے اور دہلی میں پرورش پائی، لیکن زندگی کا آخری حصہ لکھنؤ میں گزارا۔ میر کی شاعری میں غم، درد اور سوز و گداز نمایاں ہے۔ ان کی زبان سادہ، سلیس اور دل کو چھو لینے والی ہے۔ وہ اردو غزل کے بادشاہ مانے جاتے ہیں۔

Summary (خلاصہ: فقیرانہ آئے صدا کر چلے)

**خلاصہ:** اس غزل میں میر تقی میر اپنی قلندرانہ اور درویشانہ طبیعت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں ایک فقیر کی طرح آئے، سب کو دعا دی اور چلے گئے۔ ہم نے اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کمایا، وہ صرف ’دل کی دولت‘ تھی جو ہم نے اپنے محبوب پر نچھاور کر دی۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم نے اپنی ہستی کو مٹا دیا اور عاجزی اختیار کی، کیونکہ یہی محبت کا تقاضا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ تم خوش رہو، ہم تو اب اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ وہ اپنی ناکامیوں کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ اپنا حالِ دل سنائیں لیکن ہماری آہ و زاری کا کوئی اثر نہ ہوا۔ آخرکار ہم اپنی جان کا نذرانہ دے کر جا رہے ہیں۔

Central Idea (مرکزی خیال)

اس غزل کا مرکزی خیال ’بے لوث محبت‘ اور ’زندگی کی بے ثباتی‘ ہے۔ شاعر دنیاوی خواہشات سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے محبوب کی خوشی چاہتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو ایک مسافر کی طرح گزار کر چلا جاتا ہے، جس کا واحد سرمایہ دعا اور نیک خواہشات ہیں۔
Download PDFPDF