TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class
10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 14
urdu • matric 9th

Payam-e-Latif (پیامِ لطیف)

Read the summary, central idea, and exercises of Urdu Class 9 Chapter 14 'Payam-e-Latif', a poem by Shah Abdul Latif Bhittai translated by Sheikh Ayaz.

Writer Introduction (تعارفِ شاعر)

### شاہ عبداللطیف بھٹائی (Shah Abdul Latif Bhittai) **شاہ عبداللطیف بھٹائی** (1689-1752) سندھ کے عظیم صوفی شاعر اور بزرگ ہیں۔ آپ کا کلام ’شاہ جو رسالو‘ پوری دنیا میں مشہور ہے۔ آپ کی شاعری میں اللہ سے محبت، انسانیت کی خدمت اور اخلاقیات کا درس ملتا ہے۔ یہ نظم ان کے کلام کا اردو ترجمہ ہے جو معروف شاعر **شیخ ایاز** نے کیا ہے۔

Summary (خلاصہ: پیامِ لطیف)

**خلاصہ:** نظم ’پیامِ لطیف‘ میں شاعر نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور عظمت بیان کی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ وہی دکھوں کا مداوا کرتا ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے۔ شاعر انسان کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اپنے اصل مقصد (اللہ کی رضا) کو نہ بھولے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں محنت کرتے ہیں اور اپنی خودی کو مٹا کر عاجزی اختیار کرتے ہیں، وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال درست کریں اور اللہ کے حضور سربسجود ہو کر اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں، کیونکہ وہی رحیم اور کریم ہے۔

Central Idea (مرکزی خیال)

اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات واحد اور لاشریک ہے۔ حقیقی کامیابی اللہ کی محبت اور اس کے احکامات پر عمل کرنے میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ غرور و تکبر چھوڑ کر عاجزی اختیار کرے اور اپنی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزارے۔
Download PDFPDF