TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class
10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 11
urdu • matric 9th

Bheriya (بھیڑیا)

Read the summary, theme, and exercises of Urdu Class 9 Chapter 11 'Bheriya' (The Wolf), an allegorical story translated by Farooq Sarwar.

Writer Introduction (تعارفِ مصنف)

### فاروق سرور (Farooq Sarwar) **فاروق سرور** ایک معروف افسانہ نگار اور صحافی ہیں۔ انہوں نے پشتو لوک کہانیوں کو اردو میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ سبق ’بھیڑیا‘ بھی اصل میں ایک پشتو لوک کہانی ہے جسے فاروق سرور نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ ان کی تحریروں میں لوک دانش اور انسانی نفسیات کی عکاسی ملتی ہے۔

Summary (خلاصہ: بھیڑیا)

**خلاصہ:** یہ کہانی ایک علامتی افسانہ ہے جس میں ایک آدمی کا ذکر ہے جو ایک درخت پر بیٹھا ہے۔ درخت کے نیچے ایک خونخوار بھیڑیا اس کے گرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ درخت پر اس آدمی کے لیے کھانے پینے کی ہر چیز اور آسائش موجود ہے، لیکن وہ ’آزادی‘ سے محروم ہے۔ وہ خوف کی وجہ سے نیچے نہیں اتر سکتا۔ کچھ عرصے بعد ایک اور آدمی اسی درخت پر آ جاتا ہے، جس کا بھیڑیا بھی نیچے اس کا منتظر ہے۔ درخت سکڑنے لگتا ہے اور بھیڑیے بڑے ہونے لگتے ہیں۔ آخرکار، دونوں فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اس قید سے آزادی حاصل کریں گے۔ وہ ہمت کر کے درخت سے نیچے چھلانگ لگاتے ہیں اور درخت کی ٹہنی سے اپنے اپنے بھیڑیے کو مار ڈالتے ہیں۔ **نتیجہ:** اس کہانی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ’بھیڑیا‘ دراصل ہمارے اندر کا ’خوف‘ ہے۔ جب تک ہم خوفزدہ رہتے ہیں، ہم اپنی آسائشوں کے قیدی بنے رہتے ہیں اور حقیقی آزادی سے محروم رہتے ہیں۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے خوف کا مقابلہ کرنا اور اس پر قابو پانا ضروری ہے۔

Theme (مرکزی خیال)

اس کہانی میں ’درخت‘ دنیاوی آسائشوں اور جمود (Stagnation) کی علامت ہے، جبکہ ’بھیڑیا‘ انسان کے اندرونی خوف کی علامت ہے۔ مصنف یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انسان اکثر خوف کی وجہ سے اپنی آزادی قربان کر دیتا ہے۔ حقیقی زندگی اور کامیابی تبھی ملتی ہے جب انسان اپنے خوف پر قابو پا کر آگے بڑھنے کی ہمت کرے۔
Download PDFPDF