Comprehensive notes for Chapter 7 Mujhay Meray Doston Say Bachao by Sajjad Haider Yildirim. Includes Author Introduction, Chapter Summary, Vocabulary, and Exercise solutions.
تعارف: سید سجاد حیدر یلدرم 1880ء میں بجنور میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی۔اے کیا۔ وہ ترکی زبان و ادب میں مہارت رکھتے تھے اور بغداد میں برطانوی قونصل خانے میں ترجمان رہے۔
خصوصیات کلام: وہ ایک صاحبِ طرز ادیب، مترجم اور شاعر تھے۔ ان کی تحریروں میں رومانیت اور لطیف طنز و مزاح کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ انہوں نے ترکی ادب سے کئی کہانیاں اردو میں منتقل کیں۔
تصانیف: خیالستان، حکایات و احساسات، ترکی افسانے۔
خلاصہ: یہ مضمون سید سجاد حیدر یلدرم نے لکھا ہے جس میں انہوں نے تکلف والے دوستوں سے ہونے والے وقت کے ضیاع کا ذکر کیا ہے۔ مصنف چاندنی چوک میں ایک فقیر کی صدا سنتے ہیں جو اپنی بدحالی کا رونا رو رہا ہوتا ہے، لیکن مصنف کو لگتا ہے کہ وہ فقیر ان سے زیادہ خوش نصیب ہے کیونکہ اسے دوستوں کی طرف سے وقت ضائع کرنے کی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ مصنف اپنے مختلف قسم کے دوستوں (احمد مرزا، شاکر خان وغیرہ) کا ذکر کرتے ہیں جو ان کے کام میں خلل ڈالتے ہیں۔ احمد مرزا جب آتے ہیں تو ہنگامہ کھڑا کر دیتے ہیں، اور شاکر خان انہیں گاؤں لے جاتے ہیں جہاں مصنف کو لکھنے پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ آخر میں مصنف اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ دشمنوں سے نمٹ سکتے ہیں لیکن 'دوستوں' سے بچنا مشکل ہے اور وہ دعا کرتے ہیں 'مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ'۔