Comprehensive notes for Chapter 5 Paristan Ki Shahzadi by Ashraf Subuhi. Includes Author Introduction, Vocabulary, and Exercise solutions.
تعارف: اشرف صبوحی کا اصل نام سید ولی اشرف تھا۔ 1905ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے محکمہ ڈاک و تار میں ملازمت کی۔ وہ دہلی کی ٹکسالی زبان اور وہاں کے روزمرہ و محاورہ پر عبور رکھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں دہلی کے مٹتے ہوئے تہذیبی کوائف کی جھلک ملتی ہے۔
خصوصیات کلام: اشرف صبوحی صاحبِ طرز ادیب تھے۔ ان کی زبان سلیس اور بامحاورہ ہے۔ وہ بچوں کے لیے کہانیوں کی کتابیں بھی لکھتے رہے۔
تصانیف: دلی کی چند عجیب ہستیاں، غبارِ کارواں، جھروکے، سلمیٰ اور بن باسی دیوی۔
خلاصہ: یہ کہانی سیدانی بی کی ہے جو ایک ہنرمند مغلانی تھیں۔ وہ نوابوں اور بادشاہوں کے محلات میں کام کرتی تھیں۔ ایک بار انہیں پرستان کے بادشاہ نے اپنی بیٹی کے جہیز کے کپڑے ٹانکنے کے لیے بلایا۔ وہاں انہوں نے عجیب و غریب چیزیں دیکھیں جیسے پھلوں والے درخت جن سے من پسند کھانے نکلتے تھے، اور جواہرات کے ڈھیر۔ انہوں نے شہزادی کا جوڑا تیار کیا جس پر انہیں بہت سے جواہرات انعام میں ملے۔ جب وہ واپس دنیا میں آئیں تو وہ جواہرات پتھر کنکر بن چکے تھے لیکن اللہ نے ان کی رزق کی تنگی دور کر دی۔ یہ کہانی انسان کو وقت کی قدر اور خدا پر توکل کا سبق دیتی ہے۔