TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class
10th Class
11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 14
urdu • matric 10th

Chapter 14: Khatoot-e-Rashid Ahmed Siddiqui

Comprehensive notes for Chapter 14 Khatoot-e-Rashid Ahmed Siddiqui. Includes Author Introduction, Letters Summary, Vocabulary, and Exercise solutions.

Author Introduction

تعارف: رشید احمد صدیقی 1894ء میں جونپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور وہیں تدریس سے وابستہ رہے۔ وہ اردو کے ممتاز مزاح نگار، نقاد اور خاکہ نگار تھے۔

خصوصیات کلام: ان کی تحریروں میں طنز و مزاح کی شائستہ اور گہری لہر پائی جاتی ہے۔ ان کا اسلوب سادہ، رواں اور دلکش ہے۔ وہ علی گڑھ کی تہذیب اور روایات کے امین تھے۔

تصانیف: مضامینِ رشید، خنداں، گنج ہائے گراں مایہ، ہم نفسانِ رفتہ، آشفتہ بیانی میری۔

خطوطِ رشید احمد صدیقی (خلاصہ)

خلاصہ: اس سبق میں رشید احمد صدیقی کے تین خطوط شامل ہیں:

1. بنام ڈاکٹر محمد احسن: اس خط میں رشید احمد صدیقی نے سہتیہ اکیڈمی (Sahitya Akademi) کی طرف سے ملنے والے اعزاز پر مبارکباد دینے پر ڈاکٹر محمد احسن کا شکریہ ادا کیا ہے۔

2. بنام نسیم سحر صدیقی: یہ ایک تعزیتی خط ہے جو رشید احمد صدیقی نے نسیم سحر صدیقی کے والد کی وفات پر لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے مرحوم کی خوبیوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ ایک شریف اور وضع دار انسان تھے۔

3. بنام پروفیسر سید بشیر الدین: اس خط میں انہوں نے علی گڑھ کی روایات اور وہاں کے تعلیمی ماحول پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ علی گڑھ کا ماحول طالب علموں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور شاگردوں کے باہمی احترام اور محبت کے رشتے کو بھی اجاگر کیا ہے۔

Download PDFPDF