Comprehensive notes for Chapter 14 Ayub Abbasi by Rasheed Ahmed Siddiqui. Includes summary, solved short questions, and MCQs for FSc/FA Part 2 Urdu.
یہ خاکہ ’ایوب عباسی‘ رشید احمد صدیقی کا تحریر کردہ ہے۔ ایوب عباسی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے استاد تھے۔ وہ جونپور سے میٹرک کرنے کے بعد علی گڑھ آئے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ وہ 1982ء میں پروفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
ایوب عباسی ایک نہایت سادہ، مخلص اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ وہ دوستوں کے دوست تھے۔ ان کے دل میں دوسروں کے لیے بے پناہ ہمدردی تھی۔ وہ نمود و نمائش سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔ ان کی زندگی میں سادگی اور قناعت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ کم سخن تھے لیکن جب بولتے تو بہت نپی تلی بات کرتے۔
طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ نہایت شفیقانہ تھا۔ وہ طالب علموں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ اگر کسی طالب علم کو کوئی مسلئہ ہوتا تو ایوب صاحب اس کی بھرپور مدد کرتے۔ وہ امتحانات کے دنوں میں طلبا کو اپنے گھر بلا کر پڑھاتے اور ان کی خاطر تواضع بھی کرتے۔
ایوب عباسی کا سب سے بڑا وصف خدمت خلق تھا۔ وہ بیماروں کی عیادت کرتے اور ان کی دیکھ بھال کرتے۔ جب کوئی دوست بیمار ہوتا تو وہ اس کے گھر پہنچ جاتے اور دن رات اس کی تیمارداری کرتے۔ علی گڑھ میں جب بھی سٹوڈنٹس یونین کی ہڑتال ہوتی تو ایوب عباسی کی خدمات ایک صلیبی نرس (Red Cross Nurse) کی طرح ہوتیں۔ وہ زخمیوں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے۔
ایوب عباسی کی وفات پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ان کے جنازے میں نہ صرف علی گڑھ کے بڑے بڑے لوگ شریک تھے بلکہ چھوٹے ملازمین، خاکروب اور ان کے بچے بھی رو رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر شخص کا کوئی اپنا عزیز بچھڑ گیا ہے۔