Comprehensive notes for Chapter 13 Aik Safarnama Jo Kahin Ka Bhi Nahi Hai by Ibn-e-Insha. Includes summary, solved short questions, and MCQs for FSc/FA Part 2 Urdu.
یہ سبق ’ایک سفرنامہ جو کہیں کا بھی نہیں ہے‘ ابنِ انشا کا تحریر کردہ ہے۔ ابنِ انشا (شیر محمد خان) اردو کے نامور مزاح نگار، شاعر اور سفرنامہ نگار تھے۔ ان کے سفرناموں میں مزاح اور معلومات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ یہ سفرنامہ ان کی کتاب ’دنیا گول ہے‘ سے لیا گیا ہے۔
مصنف بتاتے ہیں کہ جب وہ کابل کے ہوائی اڈے پر اترے تو انہیں ہوائی اڈہ نہایت چھوٹا اور خاموش محسوس ہوا۔ وہاں کوئی ہنگامہ نہیں تھا۔ قلیوں اور ٹیکسی والوں کا شور بھی نہیں تھا۔ کابل شہر پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ مصنف اپنے دوست قدرت اللہ شہاب کے ساتھ وہاں گئے تھے۔
کابل میں ٹریفک کا نظام کچھ عجیب تھا۔ وہاں تانگے بھی چلتے تھے لیکن ان میں گھوڑے کے بجائے سائیکل کے پہیے لگے ہوتے تھے۔ بازاروں میں بھیڑ بھاڑ کم تھی۔ دکانوں پر سامان کی قلت تھی۔ ہوٹل میں کھانے کا معیار بھی کچھ خاص نہیں تھا۔ مصنف نے کابل یونیورسٹی کا دورہ بھی کیا اور وہاں کے اساتذہ سے ملے۔
مصنف نے پغمان کی سیر کا احوال بھی بیان کیا ہے جو کابل سے کچھ فاصلے پر ایک تفریحی مقام ہے۔ وہاں کے باغات اور قدرتی مناظر نے مصنف کو بہت متاثر کیا۔ پغمان میں شاہ امان اللہ خان کے دور میں ایک نئی بستی بسائی گئی تھی جسے دارالامان کہا جاتا ہے۔