Comprehensive notes for Chapter 12 Molvi Nazir Ahmed by Shahid Ahmed Dehlvi. Includes summary, solved short questions, and MCQs for FSc/FA Part 2 Urdu.
یہ خاکہ ’مولوی نذیر احمد‘ شاہد احمد دہلوی نے تحریر کیا ہے۔ مولوی نذیر احمد (ڈپٹی نذیر احمد) اردو کے پہلے ناول نگار اور بہت بڑے عالم تھے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ انہوں نے مولوی صاحب کو پہلی بار اس وقت دیکھا جب ان کی عمر پانچ سال تھی اور مولوی صاحب 70 سال کے ہو چکے تھے۔
ان کا حلیہ بہت با رعب تھا۔ قد چھوٹا، پیٹ بڑا، رنگ گندمی، سر بہت بڑا، اور چہرہ پر رونق تھا۔ وہ سر منڈواتے تھے اور سفید داڑھی رکھتے تھے۔ ان کی آواز بہت کڑک دار تھی۔
مولوی نذیر احمد کا بچپن بہت غربت اور مشکلات میں گزرا۔ وہ حصولِ علم کے لیے دہلی آئے اور مسجد میں رہے۔ وہ مولوی عبدالخالق کے شاگرد تھے اور انہی کے گھر سے روٹیاں مانگ کر لاتے اور اپنا گزارا کرتے تھے۔ وہ اکثر ذکر کرتے کہ جب وہ روٹی مانگنے جاتے تو ایک گھر سے ایک لڑکی (جو بعد میں ان کی بیگم بنیں) ان سے کڑھی میں مرچیں پسواتی تھی یا مصالحہ پسواتی تھی۔
مولوی صاحب بہت خود دار اور غیرت مند انسان تھے۔ انہوں نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ وہ اپنے کام خود کرنے کے عادی تھے۔ بازار سے سودا سلف خود لاتے تھے۔ وہ خوش خوراک تھے اور کھانے پینے کے بہت شوقین تھے۔ وہ بہت حاضر جواب اور ظریف بھی تھے۔
مولوی نذیر احمد سر سید احمد خان کے بہت گہرے دوستوں میں سے تھے۔ علی گڑھ کالج کے لیے چندہ جمع کرنے میں انہوں نے سر سید کا بہت ساتھ دیا۔ وہ علی گڑھ کے جلسوں میں اپنی جادوئی تقریروں سے لوگوں کو چندہ دینے پر مجبور کر دیتے تھے۔ ایک بار جب سر سید پر غبن کا الزام لگا تو مولوی نذیر احمد ہی تھے جنہوں نے سر سید کو تسلی دی اور اپنی جمع پونجی ان کے قدموں میں ڈھیر کرنے کی پیشکش کی۔