Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 10 'Qartaba Ka Qazi' by Syed Imtiaz Ali Taj. A drama about justice and sacrifice.
سید امتیاز علی تاج (1900ء - 1970ء)
سید امتیاز علی تاج لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو ڈرامہ نگاری میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کا سب سے مشہور ڈرامہ "انارکلی" ہے جو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈراموں کے علاوہ ریڈیو، فلم اور بچوں کے ادب کے لیے بھی بہت کام کیا۔ ان کی تحریروں میں مکالمہ نگاری اور کردار نگاری بہت جاندار ہوتی ہے۔
یہ سبق ان کے ڈرامے "قرطبہ کا قاضی" سے لیا گیا ہے جو عدل و انصاف کی ایک بہترین مثال ہے۔
یہ ڈرامہ ہسپانیہ (Spain) کے شہر قرطبہ (Cordoba) کے چیف جسٹس، قاضی یحییٰ بن منصور کے دربار کا ہے۔ قاضی یحییٰ اپنے عدل و انصاف کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے اپنے بیٹے زبیر سے قتل سرزد ہو جاتا ہے۔ شہر کے لوگ اور شاہی خاندان کے افراد بھی چاہتے ہیں کہ زبیر کو کسی طرح بچا لیا جائے، لیکن قاضی یحییٰ قانون کی حکمرانی کو مقدم رکھتے ہیں۔
زبیر کی دایہ (رضاعی ماں) حلیمہ، قاضی یحییٰ کے پاس آتی ہے۔ وہ زبیر کی جان بخشنے کی بھیک مانگتی ہے۔ وہ قاضی کو یاد دلاتی ہے کہ زبیر ان کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا ہے اور اس نے بچپن میں اسے کیسے پالا۔ وہ ممتا کے واسطے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ "خون کا بدلہ خون" کا قانون اپنوں پر لاگو نہیں ہونا چاہیے۔
قاضی یحییٰ ایک باپ ہونے کے ناتے بہت دکھی ہیں اور اندر سے ٹوٹ چکے ہیں، لیکن بحیثیت قاضی وہ اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ وہ حلیمہ کو سمجھاتے ہیں کہ عدل کے تقاضے سب کے لیے برابر ہیں، چاہے وہ میرا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ آخرکار، وہ اپنے بیٹے زبیر کو سزائے موت سناتے ہیں اور اسے اپنے ہاتھوں سے اس سزا پر عملدرآمد کراتے ہیں۔
اس ڈرامے کا پیغام یہ ہے کہ انصاف کی نظر میں امیر، غریب، اپنا، پرایا سب برابر ہیں۔ ایک سچا مسلمان حکمران یا قاضی اپنے جذبات پر اللہ کے حکم اور قانون کو ترجیح دیتا ہے۔ قاضی یحییٰ کی یہ قربانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی۔