Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 7 'Dastak' by Mirza Adeeb. A drama about conscience and professional duty.
مرزا ادیب (1914ء - 1999ء)
مرزا ادیب کا اصل نام دلاور علی تھا۔ وہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اردو ادب میں ڈرامہ نگاری، افسانہ نگاری اور سوانح نگاری میں نام پیدا کیا۔ انہیں یک بابی ڈراموں (One Act Plays) کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ ان کے ڈراموں میں انسانی نفسیات اور معاشرتی مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔
ان کی مشہور تصانیف میں "پس پردہ"، "خاک نشین"، "شیشے کی دیوار"، اور "صحرا نورد کے خطوط" شامل ہیں۔
یہ سبق ایک یک بابی ڈرامہ ہے۔ مرکزی کردار ڈاکٹر زیدی ہیں جو عمر رسیدہ ہیں اور ایک نفسیاتی مسئلے کا شکار ہیں۔ دوسرا اہم کردار ڈاکٹر برہان ہے جو ایک نوجوان اور ذہین ڈاکٹر ہے۔
ڈاکٹر زیدی کو ہر وقت یہ وہم رہتا ہے کہ دروازے پر دستک ہو رہی ہے، حالانکہ وہاں کوئی نہیں ہوتا۔ یہ آواز دراصل ان کے ضمیر کی آواز ہے۔
ڈاکٹر زیدی، ڈاکٹر برہان کو بتاتے ہیں کہ 18-20 سال پہلے جب وہ جوان تھے اور ان کی پریکٹس خوب چلتی تھی، ایک سرد طوفانی رات میں ایک بوڑھا آدمی ان کے پاس آیا۔ اس کا بیٹا سخت بیمار تھا اور اس نے ڈاکٹر زیدی سے چلنے کی منت سماجت کی۔ لیکن ڈاکٹر زیدی نے آرام اور سردی کی وجہ سے جانے سے انکار کر دیا اور نوکر کے ذریعے اسے بھگا دیا۔
بوڑھا چلا گیا لیکن دروازے پر دستک دے کر اپنی التجا دہراتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد دستک بند ہو گئی۔ ڈاکٹر زیدی کو لگتا ہے کہ وہ دستک آج بھی ان کے ضمیر کے دروازے پر ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر برہان یہ سب سن کر بتاتے ہیں کہ وہ بوڑھا آدمی ان کا دادا تھا اور وہ بیمار بچہ (ان کا باپ) اسی رات مر گیا تھا۔ یہ سن کر ڈاکٹر زیدی بہت شرمندہ ہوتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر برہان انہیں تسلی دیتے ہیں کہ وہ ایک فرض شناس مسیحا بن کر اس غلطی کا مداوا کر رہے ہیں، اور آج بھی وہ ایک مریض کو دیکھنے جا رہے ہیں حالانکہ وہ تھکے ہوئے ہیں۔
یہ ڈرامہ ہمیں احساس ذمہ داری اور فرض شناسی کا سبق دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ضمیر کی آواز انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور ماضی کی غلطیاں انسان کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھتی ہیں۔ سکون قلب صرف انسانیت کی خدمت اور فرض کی ادائیگی میں ہے۔