TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 6
urdu • intermediate 12th

پہلی فتح

Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 6 'Pehli Fatah' from the novel Muhammad bin Qasim by Naseem Hijazi. Covers the conquest of Sindh.

مصنف کا تعارف: نسیم حجازی

نسیم حجازی (1914ء - 1996ء)

نسیم حجازی کا اصل نام شریف حسین تھا۔ وہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تاریخی ناول نگاری میں بڑی شہرت حاصل کی۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے مسلمانوں کے شاندار ماضی کو زندہ کرتے ہیں اور نوجوانوں میں اسلامی جذبہ بیدار کرتے ہیں۔

ان کے مشہور ناولوں میں "محمد بن قاسم"، "خاک اور خون"، "یوسف بن تاشفین"، "شاہین"، "آخری چٹان" اور "کلیسا اور آگ" شامل ہیں۔

پس منظر: سندھ پر لشکر کشی

یہ سبق نسیم حجازی کے مشہور ناول "محمد بن قاسم" سے لیا گیا ہے۔ حجاج بن یوسف نے اپنے نوجوان بھتیجے محمد بن قاسم کو سندھ کے راجہ داہر کی سرکوبی اور مسلمانوں کو قزاقوں سے نجات دلانے کے لیے بھیجا۔ محمد بن قاسم صرف 17 سال کے تھے جب انہوں نے یہ مہم شروع کی۔

روانگی اور تیاری

دمشق سے روانگی کے وقت محمد بن قاسم کی فوج میں کل 12 ہزار مجاہدین تھے۔ بصرہ اور کوفہ کے راستے میں مزید لوگ شامل ہوتے گئے اور یہ تعداد بڑھتی گئی۔ راستے میں بوڑھے، بچے اور عورتیں لشکر کو دعائیں دیتے تھے۔ ماؤں نے اپنے بیٹے اس لشکر کے حوالے کر دیے تاکہ وہ اسلام کی سربلندی کے لیے جہاد کر سکیں۔

لسبیلہ اور حکمت عملی

مشکل راستوں سے گزرتے ہوئے لشکر لسبیلہ کے مقام پر پہنچا۔ وہاں محمد بن قاسم نے ایک فوجی پڑاؤ ڈالا۔ انہوں نے اپنے سالاروں سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ ایک مختصر دستہ دشمن کی نقل و حرکت کا جائزہ لینے کے لیے آگے بھیجا جائے۔ مقامی لوگوں نے بھی مسلمانوں کا ساتھ دیا کیونکہ وہ راجہ داہر کے ظلم سے تنگ تھے۔

محمد بن قاسم کا خطاب

میدان جنگ میں اترنے سے پہلے محمد بن قاسم نے اپنے سپاہیوں سے ایک ولولہ انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے فرمایا:

"اے مسلمانوں! تم بادشاہوں اور سالاروں کے لیے نہیں لڑ رہے، تم اللہ کے لیے لڑ رہے ہو۔ بادشاہ مر سکتے ہیں لیکن تمہارا خدا زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جو اللہ کے لیے لڑتا ہے، اسے شکست نہیں ہو سکتی۔"

اس تقریر نے مجاہدین کے دلوں میں شہادت کا جذبہ بیدار کر دیا۔

فتح اور انجام

مسلمانوں نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور دیبل کا قلعہ فتح کر لیا۔ راجہ داہر مارا گیا اور سندھ باب الاسلام بن گیا۔ یہ "پہلی فتح" تھی جس نے برصغیر میں اسلام کے دروازے کھول دیے۔

Download PDFPDF