TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 5
urdu • intermediate 12th

اکبری کی حماقتیں

Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 5 'Akbari Ki Himaqatain' by Deputy Nazir Ahmed. A lesson on the consequences of foolishness and bad temper.

مصنف کا تعارف: مولوی نذیر احمد

مولوی نذیر احمد (1836ء - 1912ء)

ڈپٹی نذیر احمد ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ دلی کالج سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کو اردو کا پہلا ناول نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ نے خواتین کی اصلاح اور تربیت کے لیے ناول لکھے۔ آپ کا انداز بیان سادہ، سلیس اور پر اثر ہے۔ محاورات کا استعمال بڑی خوبصورتی سے کرتے ہیں۔

ان کی مشہور تصانیف میں "مرأۃ العروس"، "توبتہ النصوح"، "بنات النعش"، "ابن الوقت" اور "رویائے صادقہ" شامل ہیں۔

اکبری (مزاج دار بہو) کا تعارف

یہ سبق ناول "مرأۃ العروس" سے لیا گیا ہے۔ اکبری ایک خوبصورت لیکن بدتمیز اور بے وقوف لڑکی تھی۔ وہ بچپن سے لاڈ پیار میں بگڑ گئی تھی۔ سسرال میں آ کر بھی اس نے اپنی عادتیں نہ بدلیں اور اپنی ساس اور شوہر کے ساتھ لڑتی جھگڑتی رہتی تھی۔ اس کی بے وقوفی کی وجہ سے اسے کئی بار نقصان اٹھانا پڑا۔

کٹنی (حجن) کی آمد

ایک روز گلی میں ایک فراڈ عورت (حجن) آئی جو لوگوں کو ورغلانے میں ماہر تھی۔ وہ تبرکات دکھانے کے بہانے گھروں میں گھس جاتی تھی۔ اکبری بھی اس کے جال میں پھنس گئی۔ حجن نے اکبری کو بتایا کہ میں حج کر کے آئی ہوں اور میرے پاس کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے اور مدینہ کی کھجوریں ہیں۔ اکبری ان باتوں سے بہت متاثر ہوئی۔

حجن کی چال بازی

حجن نے اکبری کی بے وقوفی بھانپ لی۔ اس نے اکبری کو سونے کا ایک مصنوعی ہار (جھوٹا زیور) دکھایا اور کہا کہ یہ خالص سونے کا ہے اور میں سستے داموں بیچ رہی ہوں۔ اکبری لالچ میں آ گئی اور اپنے سارے اصلی زیورات (جوڑی، بالیاں وغیرہ) حجن کے حوالے کر دیے تاکہ وہ بازار سے اس کے بدلے میں مزید زیور لا دے۔

زیورات کا نقصان

حجن زیورات لے کر رفو چکر ہو گئی۔ اکبری گھنٹوں انتظار کرتی رہی لیکن حجن واپس نہ آئی۔ جب شوہر (محمد عاقل) گھر آیا تو اسے پتہ چلا کہ اکبری نے اپنی حماقت سے سارے زیور لٹوا دیے ہیں۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اجنبی لوگوں پر جلدی اعتبار نہیں کرنا چاہیے اور لالچ بری بلا ہے۔

Download PDFPDF