Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 5 'Akbari Ki Himaqatain' by Deputy Nazir Ahmed. A lesson on the consequences of foolishness and bad temper.
مولوی نذیر احمد (1836ء - 1912ء)
ڈپٹی نذیر احمد ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ دلی کالج سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کو اردو کا پہلا ناول نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ نے خواتین کی اصلاح اور تربیت کے لیے ناول لکھے۔ آپ کا انداز بیان سادہ، سلیس اور پر اثر ہے۔ محاورات کا استعمال بڑی خوبصورتی سے کرتے ہیں۔
ان کی مشہور تصانیف میں "مرأۃ العروس"، "توبتہ النصوح"، "بنات النعش"، "ابن الوقت" اور "رویائے صادقہ" شامل ہیں۔
یہ سبق ناول "مرأۃ العروس" سے لیا گیا ہے۔ اکبری ایک خوبصورت لیکن بدتمیز اور بے وقوف لڑکی تھی۔ وہ بچپن سے لاڈ پیار میں بگڑ گئی تھی۔ سسرال میں آ کر بھی اس نے اپنی عادتیں نہ بدلیں اور اپنی ساس اور شوہر کے ساتھ لڑتی جھگڑتی رہتی تھی۔ اس کی بے وقوفی کی وجہ سے اسے کئی بار نقصان اٹھانا پڑا۔
ایک روز گلی میں ایک فراڈ عورت (حجن) آئی جو لوگوں کو ورغلانے میں ماہر تھی۔ وہ تبرکات دکھانے کے بہانے گھروں میں گھس جاتی تھی۔ اکبری بھی اس کے جال میں پھنس گئی۔ حجن نے اکبری کو بتایا کہ میں حج کر کے آئی ہوں اور میرے پاس کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے اور مدینہ کی کھجوریں ہیں۔ اکبری ان باتوں سے بہت متاثر ہوئی۔
حجن نے اکبری کی بے وقوفی بھانپ لی۔ اس نے اکبری کو سونے کا ایک مصنوعی ہار (جھوٹا زیور) دکھایا اور کہا کہ یہ خالص سونے کا ہے اور میں سستے داموں بیچ رہی ہوں۔ اکبری لالچ میں آ گئی اور اپنے سارے اصلی زیورات (جوڑی، بالیاں وغیرہ) حجن کے حوالے کر دیے تاکہ وہ بازار سے اس کے بدلے میں مزید زیور لا دے۔
حجن زیورات لے کر رفو چکر ہو گئی۔ اکبری گھنٹوں انتظار کرتی رہی لیکن حجن واپس نہ آئی۔ جب شوہر (محمد عاقل) گھر آیا تو اسے پتہ چلا کہ اکبری نے اپنی حماقت سے سارے زیور لٹوا دیے ہیں۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اجنبی لوگوں پر جلدی اعتبار نہیں کرنا چاہیے اور لالچ بری بلا ہے۔