Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 4 'Mehnat Pasand Khirdmand' by Maulana Muhammad Hussain Azad. An allegory about the conflict between laziness and hard work.
مولانا محمد حسین آزاد (1830ء - 1910ء)
دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولوی محمد باقر تھا جنہوں نے دہلی سے پہلا اردو اخبار نکالا تھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں والد کو شہید کر دیا گیا اور آزاد کو در بدر ہونا پڑا۔ آخر کار لاہور پہنچے اور محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔
آزاد اردو کے صاحب طرز انشا پرداز ہیں۔ ان کی تحریر میں تخیل کی کارفرمائی، تمثیل نگاری اور شاعرانہ انداز نمایاں ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں "آب حیات"، "نیرنگ خیال"، "دربار اکبری"، "سخن دان فارس" اور "قصص الہند" شامل ہیں۔ انہیں "آقائے اردو" بھی کہا جاتا ہے۔
یہ سبق ایک تمثیل (Allegory) ہے جو "نیرنگ خیال" سے لی گئی ہے۔ اس میں انسانی جذبات اور کیفیات کو جیتے جاگتے کرداروں کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔
شروع میں انسان بڑے آرام اور سکون سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ملک کا بادشاہ "خسرو آرام" (آرام پسند بادشاہ) تھا جو اپنی رعایا کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دیتا تھا۔ ہر طرف خوشحالی تھی، زمین خود بخود پھل اور پھول اگاتی تھی۔ کسی کو محنت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
پھر ایسا ہوا کہ لوگوں میں "غرور" اور "خود پسندی" آ گئی۔ شیطان کی بیٹیوں نے لوگوں کو بہکایا۔ "احتیاج" (ضرورت) اور "افلاس" (غربت) نے حملہ کر دیا۔ لوگوں نے محنت چھوڑ دی تھی اس لیے قحط پڑ گیا۔ ملک میں بیماری، بھوک اور بدحالی پھیل گئی۔ لوگ خسرو آرام سے متنفر ہو گئے کیونکہ وہ ان کی مصیبتوں کا حل نکالنے سے قاصر تھا۔
اس مصیبت کے وقت لوگوں کے مشورے سے ایک نیا حکمران سامنے آیا جس کا نام "محنت پسند خردمند" تھا۔ اس نے لوگوں کو جھنجھوڑا اور بتایا کہ "ہمت" اور "تحمل" سے کام لو۔ اس نے حکم دیا کہ ہاتھ پاؤں ہلاؤ، زمین کھودو، فصلیں اگاؤ، اور عمارتیں بناؤ۔
لوگوں نے جب محنت پسند خردمند کی بات مانی اور کام شروع کیا تو زمین پھر سے سونا اگلنے لگی۔ قحط اور افلاس کا خاتمہ ہو گیا۔ دنیا میں دوبارہ رونق آ گئی۔ اس طرح محنت اور عقل مندی نے انسان کو تباہی سے بچا لیا اور اسے ایک نئی اور بہتر زندگی کی راہ دکھائی۔
مصنف نے اس تمثیل کے ذریعے یہ سبق دیا ہے کہ انسان کی عظمت اور بقا محنت اور کوشش میں پوشیدہ ہے، نہ کہ کاہلی اور آرام طلبی میں۔