TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 3
urdu • intermediate 12th

نواب محسن الملک

Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 3 'Nawab Mohsin ul Mulk' by Maulvi Abdul Haq. Covers the life, character, and services of Nawab Mohsin ul Mulk for Aligarh and Urdu.

مصنف کا تعارف: مولوی عبدالحق

مولوی عبدالحق (1870ء - 1961ء)

مولوی عبدالحق ہاپڑ (ضلع میرٹھ) میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ سے بی اے کیا۔ حیدرآباد دکن میں ملازمت کی اور جامعہ عثمانیہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے سیکرٹری کی حیثیت سے اردو زبان کی بے مثال خدمت کی، اسی لیے انہیں "بابائے اردو" کہا جاتا ہے۔

ان کی تحریر سادہ، سلیس اور پر اثر ہوتی ہے۔ ان کی خاکہ نگاری بہت مشہور ہے۔ یہ سبق ان کی کتاب "چند ہم عصر" سے لیا گیا ہے۔ ان کی دیگر اہم تصانیف میں "مقدمات عبدالحق"، "خطبات عبدالحق" اور "اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا حصہ" شامل ہیں۔

تعارف شخصیت: نواب محسن الملک

نواب محسن الملک کا اصل نام سید مہدی علی خان تھا۔ آپ سرسید احمد خان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ نواب محسن الملک اپنے زمانے کے بہت بڑے مقرر، منتظم اور سیاست دان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت اور وجاہت دونوں سے نوازا تھا۔

خطابت اور جادو بیانی

نواب صاحب کی تقریر میں ایسا جادو تھا کہ سننے والے مسحور ہو جاتے تھے۔ جب وہ بولتے تو الفاظ ان کے منہ سے پھولوں کی طرح جھڑتے تھے۔ ان کی آواز میں شیرینی اور گونج تھی۔ سرسید احمد خان اکثر کہا کرتے تھے کہ "اگر محسن الملک نہ ہوتے تو مہمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا بھٹہ بیٹھ جاتا۔" یہ ان کی جادو بیانی ہی تھی جس نے قوم کو چندے دینے پر مجبور کر دیا اور علی گڑھ کالج کے مالی مسائل حل ہوئے۔

حیدرآباد دکن میں خدمات

نواب صاحب طویل عرصے تک ریاست حیدرآباد دکن میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ وہاں انہوں نے ریاست کے مالیاتی اور انتظامی نظام کو درست کیا۔ انہوں نے وہاں اردو زبان کو سرکاری دفتروں کی زبان بنایا جو ان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ حیدرآباد میں ان کی قابلیت کے جوہر کھلے اور انہوں نے وہاں کئی اصلاحات نافذ کیں۔

اردو کی حفاظت (اردو ہندی تنازعہ)

جب اتر پردیش (یو پی) کے گورنر سر انتھونی میکڈانل نے اردو کے خلاف مہم چلائی اور ہندی کو سرکاری زبان بنانے کی کوشش کی، تو نواب محسن الملک نے اس کا سخت مقابلہ کیا۔ حالانکہ سرسید کی پالیسی حکومت کی مخالفت کی نہیں تھی، لیکن نواب صاحب نے اردو کی بقا کے لیے حکومت کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔

انہوں نے لکھنؤ میں ایک عظیم الشان جلسہ کیا جس میں اردو کے حق میں پرجوش تقریر کی۔ اس پر گورنر بہت ناراض ہوا اور دھمکی دی کہ یا تو علی گڑھ کالج کی سیکرٹری شپ چھوڑ دیں یا اردو کی حفاظت کی تحریک (اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن) چھوڑ دیں۔ نواب صاحب نے علی گڑھ کے مفاد کی خاطر استعفیٰ کی پیشکش کر دی لیکن قوم نے انہیں نہیں چھوڑا۔ یہ اردو زبان پر ان کا بہت بڑا احسان ہے۔

کردار اور اخلاق

محسن الملک خوش گفتار، خوش لباس اور وضع دار انسان تھے۔ وہ دوسروں سے کام لینے کا بھی خوب ہنر جانتے تھے۔ بدرالدین طیب جی جیسے سخت مخالف کو بھی انہوں نے اپنے اخلاق اور محبت سے اپنا گرویدہ بنا لیا اور وہ علی گڑھ کالج کے صدر بننے پر راضی ہو گئے۔

موت کے وقت ان پر نزع کی حالت تھی لیکن جب علی گڑھ کالج کا ذکر آیا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ مجھے مرنے کا غم نہیں مگر یہ فکر ہے کہ میرے بعد کالج کا کیا بنے گا۔

Download PDFPDF