Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 3 'Nawab Mohsin ul Mulk' by Maulvi Abdul Haq. Covers the life, character, and services of Nawab Mohsin ul Mulk for Aligarh and Urdu.
مولوی عبدالحق (1870ء - 1961ء)
مولوی عبدالحق ہاپڑ (ضلع میرٹھ) میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ سے بی اے کیا۔ حیدرآباد دکن میں ملازمت کی اور جامعہ عثمانیہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے سیکرٹری کی حیثیت سے اردو زبان کی بے مثال خدمت کی، اسی لیے انہیں "بابائے اردو" کہا جاتا ہے۔
ان کی تحریر سادہ، سلیس اور پر اثر ہوتی ہے۔ ان کی خاکہ نگاری بہت مشہور ہے۔ یہ سبق ان کی کتاب "چند ہم عصر" سے لیا گیا ہے۔ ان کی دیگر اہم تصانیف میں "مقدمات عبدالحق"، "خطبات عبدالحق" اور "اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا حصہ" شامل ہیں۔
نواب محسن الملک کا اصل نام سید مہدی علی خان تھا۔ آپ سرسید احمد خان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ نواب محسن الملک اپنے زمانے کے بہت بڑے مقرر، منتظم اور سیاست دان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت اور وجاہت دونوں سے نوازا تھا۔
نواب صاحب کی تقریر میں ایسا جادو تھا کہ سننے والے مسحور ہو جاتے تھے۔ جب وہ بولتے تو الفاظ ان کے منہ سے پھولوں کی طرح جھڑتے تھے۔ ان کی آواز میں شیرینی اور گونج تھی۔ سرسید احمد خان اکثر کہا کرتے تھے کہ "اگر محسن الملک نہ ہوتے تو مہمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا بھٹہ بیٹھ جاتا۔" یہ ان کی جادو بیانی ہی تھی جس نے قوم کو چندے دینے پر مجبور کر دیا اور علی گڑھ کالج کے مالی مسائل حل ہوئے۔
نواب صاحب طویل عرصے تک ریاست حیدرآباد دکن میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ وہاں انہوں نے ریاست کے مالیاتی اور انتظامی نظام کو درست کیا۔ انہوں نے وہاں اردو زبان کو سرکاری دفتروں کی زبان بنایا جو ان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ حیدرآباد میں ان کی قابلیت کے جوہر کھلے اور انہوں نے وہاں کئی اصلاحات نافذ کیں۔
جب اتر پردیش (یو پی) کے گورنر سر انتھونی میکڈانل نے اردو کے خلاف مہم چلائی اور ہندی کو سرکاری زبان بنانے کی کوشش کی، تو نواب محسن الملک نے اس کا سخت مقابلہ کیا۔ حالانکہ سرسید کی پالیسی حکومت کی مخالفت کی نہیں تھی، لیکن نواب صاحب نے اردو کی بقا کے لیے حکومت کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔
انہوں نے لکھنؤ میں ایک عظیم الشان جلسہ کیا جس میں اردو کے حق میں پرجوش تقریر کی۔ اس پر گورنر بہت ناراض ہوا اور دھمکی دی کہ یا تو علی گڑھ کالج کی سیکرٹری شپ چھوڑ دیں یا اردو کی حفاظت کی تحریک (اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن) چھوڑ دیں۔ نواب صاحب نے علی گڑھ کے مفاد کی خاطر استعفیٰ کی پیشکش کر دی لیکن قوم نے انہیں نہیں چھوڑا۔ یہ اردو زبان پر ان کا بہت بڑا احسان ہے۔
محسن الملک خوش گفتار، خوش لباس اور وضع دار انسان تھے۔ وہ دوسروں سے کام لینے کا بھی خوب ہنر جانتے تھے۔ بدرالدین طیب جی جیسے سخت مخالف کو بھی انہوں نے اپنے اخلاق اور محبت سے اپنا گرویدہ بنا لیا اور وہ علی گڑھ کالج کے صدر بننے پر راضی ہو گئے۔
موت کے وقت ان پر نزع کی حالت تھی لیکن جب علی گڑھ کالج کا ذکر آیا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ مجھے مرنے کا غم نہیں مگر یہ فکر ہے کہ میرے بعد کالج کا کیا بنے گا۔