TaleemBay
Study
UniversitiesScholarshipsFeesDates
TaleemBay

Empowering students with Next-Gen tools for a brighter future. Your one-stop destination for education in Pakistan.

Quick Links

  • Universities
  • Study Center
  • Past Papers
  • Date Sheets
  • Results

Support

  • About Us
  • Contact
  • Privacy Policy
  • Terms of Service
  • Advertise

Contact Us

  • Arfa Software Technology Park,
    Ferozepur Road, Lahore
  • +92 300 1234567
  • hello@taleembay.com

© 2026 TaleemBay. All rights reserved.

Designed with ❤️ for Pakistan

Home
Unis
Study

Study Center

Overview
9th Class10th Class11th Class12th Class

Resources

Past PapersDate Sheets

Need Notes?

AI-powered search for instant answers.

Chapter 2
urdu • intermediate 12th

تشکیل پاکستان

Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 2 'Tashkeel-e-Pakistan' by Mian Bashir Ahmad. Covers the history of Pakistan movement from Mughal decline to 1947.

مصنف کا تعارف: میاں بشیر احمد

میاں بشیر احمد (1893ء - 1971ء)

میاں بشیر احمد جسٹس شاہ دین ہمایوں کے فرزند تھے۔ لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ 1922ء میں اپنے والد کی یاد میں ادبی ماہنامہ "ہمایوں" جاری کیا جو 1957ء تک کامیابی سے جاری رہا۔

وہ 1942ء سے 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے رکن رہے۔ تحریک پاکستان میں انہوں نے قائداعظمؒ کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کی تحریروں میں "کارنامہ اسلام" اور "مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل" نمایاں ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ، سنجیدہ اور مدلل ہے۔

تاریخی پس منظر: مغلیہ زوال اور اصلاحی تحریکیں

ہندوستان میں اسلامی حکومت اگرچہ گیارہویں صدی کے شروع میں قائم ہو چکی تھی لیکن 1803ء میں جب انگریزوں نے دہلی میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا تو مسلمانوں کا زوال شروع ہو چکا تھا۔ اسی زمانے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے صاحبزادوں نے مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔

سیاسی تنزل کے اس نازک دور میں سید احمد شہید بریلویؒ نے 1816ء سے 1831ء تک مسلمانوں کو مذہبی اور معاشرتی خرابیوں سے پاک کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے سکھوں کے خلاف جہاد کیا اور پشاور کے قریب ایک اسلامی حکومت قائم کی، لیکن 1831ء میں بالاکوٹ کے مقام پر شہید ہو گئے۔

تعلیمی بیداری: سرسید احمد خان اور علی گڑھ

1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ اس نازک وقت میں سرسید احمد خان نے قوم کی کشتی کو سنبھالا۔ انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کیا اور رسالہ "تہذیب الاخلاق" کے ذریعے ان کی معاشرتی اصلاح کی۔

سرسید نے 1875ء میں علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی جو بعد میں یونیورسٹی بنا۔ اس ادارے نے مسلمانوں میں قومی شعور بیدار کیا۔ سرسید نے "اسباب بغاوت ہند" لکھ کر انگریزوں کی غلط فہمیاں دور کیں۔ انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے مسلمانوں کو روکا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اکثریت (ہندو) کی حکومت میں اقلیت (مسلمان) کے حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔

سیاسی بیداری اور مسلم لیگ

1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ 1913ء میں قائداعظمؒ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1916ء میں "میثاق لکھنؤ" کے ذریعے مسلمانوں کو الگ قوم تسلیم کیا گیا۔

تحریک خلافت اور تحریک عدم تعاون نے مسلمانوں میں سیاسی جوش پیدا کیا۔ اسی دوران ہندوؤں نے "شدھی" اور "سنگٹھن" جیسی تحریکیں چلا کر مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوشش کی، جس سے دو قومی نظریہ مزید پختہ ہو گیا۔

علامہ اقبالؒ اور تصور پاکستان

علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری اور فلسفے کے ذریعے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا۔ انہوں نے 1930ء میں خطبہ الہٰ آباد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہندوازم اور اسلام دو الگ الگ تہذیبیں ہیں جو اکٹھی نہیں چل سکتیں۔

"میری خواہش ہے کہ پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ریاست بنا دی جائے۔"

قائداعظمؒ اور قیام پاکستان

23 مارچ 1940ء کو لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی جس میں مسلمانوں نے اپنے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا۔ قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانوں نے یک جان ہو کر جدوجہد کی۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔

بالآخر انگریزوں کو مسلمانوں کا مطالبہ ماننا پڑا اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں ایک عظیم واقعہ تھا۔ پاکستان کا مطلب صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ "لا الہ الا اللہ" کا نظام نافذ کرنا ہے۔

Download PDFPDF