Comprehensive notes, question answers, and MCQs for Chapter 1 'Manaqib Umar bin Abdul Aziz' by Shibli Nomani. Covers the justice, piety, and reforms of Umar II.
علامہ شبلی نعمانی (1857ء - 1914ء)
نام محمد شبلی، لقب شمس العلماء تھا۔ اعظم گڑھ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ والد شیخ حبیب اللہ وکیل تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی۔ 19 سال کی عمر میں حج کیا۔ علی گڑھ میں فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ سرسید احمد خان، مولانا حالی اور آرنلڈ سے قریبی تعلق رہا۔
ان کی مشہور تصانیف میں سیرۃ النبیﷺ، الفاروق، المامون، الغزالی، سوانح مولانا روم، شیر العجم، اور موازنہ انیس و دبیر شامل ہیں۔ ان کا انداز بیان عالمانہ اور محققانہ ہے اور وہ اردو تنقید اور تاریخ نگاری کے ستون مانے جاتے ہیں۔
یہ مضمون علامہ شبلی نعمانی کے مقالات (جلد چہارم) سے لیا گیا ہے۔ اس میں انہوں نے بنو امیہ کے خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ (جنہیں عمر ثانی بھی کہا جاتا ہے) کے عدل و انصاف، سادہ زندگی، اور غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کے واقعات بیان کیے ہیں۔
علامہ ابن جوزی نے "سیرت العمرین" میں ان کے تفصیلی حالات لکھے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیزؓ کا شمار خلفائے راشدین کے نمونے پر عمل کرنے والوں میں ہوتا ہے۔
خمس کا واقعہ ان کی غیر جانبداری کی بہترین مثال ہے۔ ایک بار ایک عیسائی نے دمشق میں خلیفہ کے دربار میں شکایت کی کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے بیٹے عباس نے اس کی زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے عباس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ زمین مجھے خلیفہ ولید نے جاگیر میں دی تھی اور میرے پاس اس کی تحریری سند موجود ہے۔
خلیفہ نے عیسائی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کے مطابق فیصلہ چاہتا ہوں۔ اس پر عمر بن عبدالعزیزؓ نے فرمایا:
"عباس! تیرے پاس ولید کی تحریر ہے اور اس کے پاس خدا کی تحریر ہے۔ اور خدا کی تحریر تیرے باپ کی تحریر پر مقدم ہے۔"
چنانچہ زمین عیسائی کو واپس دلا دی گئی۔
بنو امیہ کے دور میں لوگوں نے بیت المال کی زمینوں کو اپنی جاگیر بنا لیا تھا۔ جب عمر بن عبدالعزیزؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے یہ تمام ناجائز جاگیریں واپس لینے کا ارادہ کیا۔ خاندان بنو امیہ کے لوگ بہت سیخ پا ہوئے اور آپ کی پھوپھی کو سفارش کے لیے بھیجا۔
آپ نے انہیں دو ٹوک جواب دیا کہ "رسول اللہﷺ کے بعد ابوبکرؓ اور عمرؓ نے جو طریقہ اختیار کیا وہ حق ہے، اور جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے۔" آپ نے اپنی ذاتی جاگیر کی سندیں بھی منگوائیں اور انہیں قینچی سے کتر کر زمینیں بیت المال میں جمع کروا دیں۔
آپ کے دور میں غیر مسلموں (ذمیوں) کو مکمل مذہبی آزادی اور حقوق حاصل تھے۔ حیرہ کے عیسائیوں نے شکایت کی کہ ان کے گرجا گھر پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔ آپ نے حکم دیا کہ اگر یہ بات درست ہے تو گرجا گھر فوراً واپس کیا جائے۔
یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ آپ کا سلوک وہی تھا جو اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق تھا۔
خلیفہ ہونے کے باوجود آپ انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ عام مسلمانوں کے ساتھ لنگر خانے میں کھانا کھاتے یا گھر سے معمولی کھانا منگواتے۔ سرکاری چراغ کو نجی کاموں کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرتے۔
ایک دفعہ آپ لوگوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، ایک شخص نے لقمہ لیا تو اس نے منہ بنا لیا کیونکہ کھانا بہت روکھا سوکھا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ خوراک وہی ہے جو پیٹ کی بھوک مٹا دے۔
جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو مسلمہ بن عبدالملک نے کہا کہ آپ نے اپنے بچوں کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا، میں انہیں ایک لاکھ دینار دینا چاہتا ہوں۔
آپ نے فرمایا: "اگر یہ نیک ہوں گے تو اللہ ان کا مددگار ہوگا، اور اگر یہ برے ہوں گے تو میں انہیں گناہ کے لیے مال کیوں دوں؟"
آپ نے 39 سال کی عمر میں وفات پائی اور اپنے پیچھے صرف 17 دینار چھوڑے، جبکہ ہشام بن عبدالملک نے کروڑوں کا ترکہ چھوڑا۔ لیکن تاریخ عمر بن عبدالعزیزؓ کو یاد رکھتی ہے۔