Aik Ustad Adalat Ke Katehray Mein (ایک استاد عدالت کے کٹہرے میں)
Complete notes for Chapter 6 Aik Ustad Adalat Ke Katehray Mein by Ashfaq Ahmed. Includes Summary, Introduction, and Exercise Questions.
Khulasa (خلاصہ)
اردو میں:
اس سبق میں اشفاق احمد روم (اٹلی) میں پیش آنے والا اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ وہاں اردو براڈکاسٹنگ کے لیے جاتے تھے۔ ایک اتوار کو دوپہر کے وقت سڑکیں سنسان تھیں۔ انہوں نے سگنل توڑ دیا کیونکہ کوئی ٹریفک نہیں تھی۔ لیکن ایک پولیس والے نے انہیں روک لیا اور چالان کر دیا۔ اشفاق احمد نے وہیں جرمانہ ادا کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس والے نے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ عدالت کا معاملہ ہے۔ جب وہ عدالت میں پیش ہوئے تو جج نے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ اشفاق احمد نے بتایا کہ وہ ایک 'ٹیچر' (استاد) ہیں۔ یہ سنتے ہی جج اور عدالت میں موجود تمام لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ جج نے معافی مانگی اور کہا کہ استاد تو قوم کا معمار ہوتا ہے، عدالت شرمندہ ہے کہ ایک استاد کو یہاں آنا پڑا۔ چالان معاف کر دیا گیا۔ اشفاق احمد اس واقعے سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں احساس ہوا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے اساتذہ کی عزت کرتی ہیں۔
In English:
In this lesson, Ashfaq Ahmed recounts an incident from his time in Rome, Italy. He was driving to work for a broadcast on a quiet Sunday afternoon and jumped a red light. He was stopped by a policeman and issued a challan. Despite his attempt to pay the fine on the spot, he was summoned to court. When the judge asked about his profession, Ashfaq Ahmed replied that he was a teacher. Upon hearing this, the judge and everyone present stood up in respect. The judge apologized, stating that a teacher builds the nation, and cancelled the fine. This incident made Ashfaq Ahmed realize that nations that honor their teachers are the ones that truly attain greatness.