Complete notes for Chapter 5 Makateeb-e-Ghalib. Includes Letters to Mir Mehdi Majruh and Allaudin Khan Alai, Summary, and Solved Exercises.
Letter to Mir Mehdi Majruh (خلاصہ: بنام میر مہدی مجروح)
اردو میں:
غالب میر مہدی مجروح کو لکھتے ہیں کہ 'میاں! تم نوکر ہو، میں نوکر نہیں ہوں'۔ غالب بتاتے ہیں کہ وہ بادشاہ (بہادر شاہ ظفر) کے نمک خوار تھے لیکن اب وہ بھی نہیں رہے۔ غالب اپنی اور دلی کی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہر میں شدید بارش ہو رہی ہے۔ چھتیں ٹپک رہی ہیں اور وہ ایک چھلنی جیسی کوٹھری میں رہ رہے ہیں جہاں بارش کا پانی برستا ہے۔ وہ مجروح کو بتاتے ہیں کہ دلی اب وہ دلی نہیں رہی۔
In English:
Ghalib writes to Mir Mehdi Majruh playfully stating that unlike Majruh, he is not a servant, except formerly of the King. He describes the heavy rains in Delhi and the dilapidated condition of his house, where the roof leaks like a sieve. He laments the ruined state of Delhi.
Letter to Allaudin Khan Alai (خلاصہ: بنام علاؤ الدین خان علائی)
اردو میں:
اس خط میں غالب علاؤ الدین خان علائی کو پیار سے مخاطب کرتے ہیں۔ وہ ذکر کرتے ہیں کہ 'بھائی! تمہارے پاس آیا' یعنی میرا خط پہنچا۔ وہ اپنی قید (گھر میں نظر بندی یا بڑھاپے کی مشکلات) کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ علائی کی خیریت دریافت کرتے ہیں اور اپنے حالات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اب ضعیف ہو چکے ہیں اور مختلف بیماریوں نے گھیر رکھا ہے۔
In English:
In this letter to Allaudin Khan Alai, Ghalib writes with affection. He mentions his 'imprisonment' (referring to his confinement due to old age or circumstances). He inquires about Alai's well-being and describes his own frailty and health issues.